بھٹکل 14 جون (ایس او نیوز) کیرالہ سے مکہ کے لئے حج کے سفر پر پیدل نکلنے والا 30 سالہ نوجوان شِہاب چھوٹھور منگل صبح قریب آٹھ بجے بھٹکل اور اُترکنڑا سرحد میں داخل ہوا، جہاں گورٹے، بیلکے ، سرپن کٹہ ، پورورگا اور عثمان نگر میں عوام ان کے ساتھ جڑتےچلے گئے اور جگہ جگہ استقبال کرتے ہوئے ان کو ساتھ لے کر قریب پونے نو بجے بھٹکل نور مسجد پہنچے۔
نور مسجد میں اس نوجوان سے ملنے سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی، مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے سکریٹری جیلانی شاہ بندری، بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر عزیز الرحمن رکن الدین ندوی، نور مسجد کے خطیب و امام مولانا امین رکن الدین ندوی، نور مسجد کے صدر آصف دامودی، جنرل سکریٹری عبدالسمیع صدیقہ سمیت دیگر کئی ذمہ داران موجود تھے۔مسجد میں ہی ناشتہ وغیرہ کے بعد وہ صبح دس بجے اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔ شہاب کو ایک نظر دیکھنے ، ان کا استقبال کرنے اور ان کے ساتھ کئی کلو میٹر تک پیدل چلنے کثیر تعداد میں لوگ جمع تھے۔ عوام کی طرف سے انہیں دعائیں دینے کے ساتھ ساتھ عوام نے شہاب سے بھی دعاوں کی درخواست کی۔
شِہاب 2 جون کو کیرالہ کے ملّاپورم ضلع کے اتھاوناڈا سے نکلے تھے، پیدل چلتے ہوئے 9 جون جمعرات کو وہ ضلع دکشن کنڑا کی سرحد تلپاڈی میں داخل ہوئے ، وہاں مسلمانوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا، مینگلور پمپ ویل مسجد میں رات کا قیام کرنے کے بعد جمعہ کو پھر اپنے سفر پر نکل پڑے ، 11 جون سنیچر کو وہ ضلع اُڈپی میں داخل ہوئے، اُڈپی میں مسلمانوں نے ان کا شاندار استقبال کیا ، پیر کو اُڈپی کے سرحدی علاقہ شیرور مسجد میں رات کا قیام کیا، شیرور میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ وہاں سے وہ آج 14 جون کو آگے بڑھتے ہوئے ااُترکنڑا کی سرحد بھٹکل میں داخل ہوئے۔گوگل کی مانیں تو شہاب نے اب تک قریب 430 کلو میٹر کا سفر طے کرتےہوئے بھٹکل پہنچے تھے اب وہ بھٹکل سے مرڈیشور کے لئے نکل چکے ہیں۔
شہاب جو کیرالہ میں ایک سوپر مارکٹ چلاتے ہیں، گذشتہ آٹھ ماہ سے حج کی تیاری کررہے تھے۔ اب انہیں مکہ پہنچنے کے لئے چھ ممالک سے ہوکر گذرنا ہے، وہ کسی بھی سوار ی پر سوار ہوئے بغیر بذریعہ روڈ پیدل ہی چلیں گے اور انڈیا سے پاکستان، ایران، عراق اور کویت ہوتے ہوئے سعودی عربیہ میں داخل ہوں گے اور مقدس شہر مکہ پہنچیں گے۔ اس کےلئے انہیں 8640 کلو میٹر پیدل چلنا ہے اور وہ 25 کلو میٹر فی دن کے حساب سے 280 دنوں تک چلتے رہیں گے۔
شِہاب کو ریاست کیرالہ کے مرکزی ایکسٹرنل افائر منسٹر وی مُرلی دھرن کی حمایت حاصل ہے ساتھ ساتھ اس کے سفر کو کامیاب بنانے کے لئے کئی دیگر لوگ بھی تعاون کررہے ہیں، فی الحال وہ کیرالہ سے کرناٹک میں داخل ہوئے ہیں یہاں سے وہ مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب ہوتے ہوئے واگھا بورڈر سے پاکستان میں داخل ہوں گے۔
ان کے ساتھ ایک 10 کلو وزنی بیگ ہے جس میں کچھ ٹی شرٹس، ٹراوزرس ، بیڈ شیٹ اور ایک چھتری ہے، ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ان کے مضبوط ارادے اور عزم بھی ہیں، جن کی مدد سے وہ یہ سفر طے کریں گے۔ جن جن علاقوں میں داخل ہوں گے،رات ہونے پر اُسی علاقہ کی مسجد میں قیام کریں گےاور اگلی صبح پھر سفر پرنکل پڑیں گے۔
ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں حج کا یہ پیدل سفر 280 دنوں میں طے کرنا ہے اوروہ اگلے سال یعنی 2023 میں حج کا فریضہ انجام دیں گے۔ انہوں نے اس سفر کے لئے اپنی فیملی اور دوستوں سمیت دیگر لوگوں کی طرف سے بھی تعاون ملنے کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کی ریاستی حکومت سمیت مرکزی حکومت کا بھی انہیں تعاون حاصل ہے۔
شہاب کی مادری زبان ملیالم ہے، مگر وہ عربی اور انگریزی جانتےہیں، ہندی/اردو میں کافی کمزور ہیں۔ بھٹکل سے شہاب مرڈیشور پہنچیں گے جہاں دوپہر کے کھانے کے بعد شام کو منکی میں قیام کا ارادہ ہے۔ پھر وہ کل بدھ کو آگے کےلئے نکلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کاروار اور گوا کے راستے مہاراشٹرا ہوتےہوئے آگے بڑھیں گے۔